اشاعتیں

اداکارہ انجمن

تصویر
  انجمن (اداکارہ) انجمن شاہین۔ ایک پاکستانی فلمی اداکارہ ہے۔ وہ 1980 اور 1990 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان کی کامیاب ترین پنجابی فلمی ہیروئنوں میں سے ایک تھیں۔ وہ بہاولپور میں پیدا ہوئیں۔ انجمن کے والدین کا تعلق احمد پور مشرقی سے تھا، وہ ملتان میں مقیم تھے جہاں انجمن کی پرورش ہوئی۔ بعد میں وہ لاہور منتقل ہو گئیں۔ ان کا کیریئر تقریباً 20 سال پر محیط تھا اور وہ 300 سے زائد فلموں میں نظر آئیں۔ وہ پہلی بار اردو فلم "صورت" (1973) میں وسیم عباس، افشاں، تاج نیازی کے ساتھ ساتھ اداکاری میں نظر آئیں۔ اس کی آخری نمائش پینگاں (2000) میں ہوئی تھی۔ صورت کو کامیابی نہیں ملی۔ اس کی پہلی بڑی ہٹ فلم "وعدے کی زنجیر" (1979) تھی۔ انہوں نے دو فلمیں "شیر خان" اور چن وریام (1981) میں اہم کردار ادا کیے اور "سالا صاحب" (1981) میں معاون کردار ادا کیا۔ یہ تینوں فلمیں ہی ڈائمنڈ جوبلی ہٹ فلمیں تھیں اور اسی دن ریلیز ہوئیں، ایک منفرد ریکارڈ، جو اس نے اپنے ساتھی اداکار سلطان راہی، اس کی پلے بیک آواز میڈم نور جہاں، اور موسیقار وجاہت عطرے کے ساتھ شیئر کیا۔ وہ اپنے دور کے ہر ہیرو ...

اداکارہ ریشم

تصویر
  ریشم  ایک پاکستانی فلم اور ٹیلی ویژن اداکارہ اور ماڈل ہیں۔ ریشم کا تعلق پنجاب کے شہر فیصل آباد سے ہے۔ پیشہ کے لحاظ سے وہ فلمی اداکارہ اوع ٹیلی ویژن اداکارہ ہیں۔ 2021 میں انہیں صدر پاکستان کی طرف سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ جبکہ 1999ء میں نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہوں نے 1995 میں "جیوا" کے ساتھ اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا، اور 1990 کی دہائی کے دوران وہ لالی ووڈ کی معروف اداکارہ تھیں۔اس کے قابل ذکر فلمی کریڈٹ میں  • جیوا (1995)  • گھونگھٹ (1996) • دوپٹہ جل رہا ہے(1998) • پل دو پل (1999) • سوارنگی (2015)  شامل ہیں۔  اس نے فلم سنگم (1997) میں اپنی اداکاری کے لیے بہترین اداکارہ کا نیشنل ایوارڈ جیتا، اور فلم "جنت کی تلاش" (1999) کے لیے نگار یعنی بہترین اداکارہ کا ایوارڈ حاصل کیئے۔ ریشم نے اپنی ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی اور میٹرک (ہائی اسکول یعنی دسویں جماعت) تک تعلیم حاصل کی۔ اس کاخاندانی پس منظر پنجابی ہے۔ اس نے سات سال کی عمر میں اپنی ماں کو کھو دیا اور اس کی پرورش اس کی بڑی بہن نے کی۔ ریشم نے اپنے کیریئر کا آغاز 1995 میں فلم جیوا سے کیا۔حالانکہ...

Actress saima noor

تصویر
  صائمہ نور صائمہ نور ایک پاکستانی اداکارہ ہیں جو پاکستانی فلموں اور ٹیلی ویژن ڈراموں میں نظر آتی ہیں۔ وہ فلم چوڑیاں (1998) میں اداکاری کے بعد نمایاں ہوئیں، جسے اب تک کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی پاکستانی فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی دیگر قابل ذکر فلموں کے کریڈٹ میں • بڈھا گجر (2002) • مجاجن (2006)  • بھائی لوگ (2011)  شامل ہیں، یہ سبھی تجارتی کامیابیاں تھیں۔ وہ 1990 اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں ملک کی معروف فلمی اداکاراؤں میں سے ایک تھیں۔ صائمہ کا فلمی کام بہت سی انواع پر محیط ہے، جن میں مافوق الفطرت فلم ناگ اور ناگن (2005) اور سوانحی فلم سیلوٹ (2016) شامل ہیں اس نے پاکستانی ٹیلی ویژن انڈسٹری میں بھی اپنا کیریئر قائم کیا ہے اور وہ مختلف ٹیلی ویژن سیریز میں نظر آئی ہیں، جن میں رنگ لگا (2015)، یہ میرا دیوانہ پن ہے (2015)، اور "ببن خالہ کی بیٹیاں" شامل ہیں۔ 2005 میں انہوں نے ہدایت کار سید نور سے شادی کی جن کے ساتھ انہوں نے متعدد فلموں میں کام کیا۔ ابتدائی زندگی صائمہ کی پیدائش ملتان، پنجاب، پاکستان میں ہوئی۔ ان کا تعلق پٹھان خاندان سے ہے۔ کیریئر فلمی کیریئر صائمہ ک...

Bakhtawar drama

تصویر
بختاور بختاور ایک پاکستانی ڈرامہ ٹیلی ویژن سیریز ہے جس کی ہدایت کاری شاہد شفاعت نے کی ہے اور پہلی بار ہم ٹی وی پر 17 جولائی 2022 سے نشر کی گئی ہے۔ اسے مومنہ دُرید نے ایم ڈی پروڈکشن کے بینر کے تحت پروڈیوس کیا ہے۔ اس میں یمنا زیدی کو ایک نوجوان لڑکی کے کردار میں دکھایا گیا ہے جو اپنی مشکلات سے بچ کر اپنے لیے ایک بہتر کل بنانا چاہتی ہے۔ پروڈکشن کمپنی ایم ڈی پروڈکشنز ریلیز اصل نیٹ ورک ہم ٹی وی پکچر فارمیٹ پلاٹ بختاور ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتی ہے، جوکہ  ایک پرجوش طالب علم ہے جو ایک ایسے خاندان میں رہتی ہے جس میں ماں، ایک معذور بھائی اور ایک بہن ہے۔ اس کا جواری باپ اس کی بڑی بہن کو زبردستی شادی میں بھیج دیتا ہے، اور خود گھر سے چلا جاتا ہے۔ غربت کی وجہ سے اس کا بھائی مر جاتا ہے جس پر اس کا چچا اس کی شادی اپنے ذہنی معذور بیٹے سے زبردستی کروانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنے چچا کو ایسا کرنے نہیں دیتی اور اپنی ماں کے ساتھ کراچی بھاگ جاتی ہے۔ وہاں، وہ سکینہ کے گھر میں رہتے ہیں جو شریفہ کی دوست ہے اور اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے۔ بختاور نوکری حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اسے ہر جگہ سے مسترد کردیا ...

Filmstar shameem aara

تصویر
شمیم آرا پاکستان فلم انڈسٹری کی ایک مایہ ناز فنکارہ "پُتلی بائی" بھارت کے شہر علی گڑھ میں 1938ء کو پیدا ہوئی- 1956ء میں پتلی بائی اپنے رشتے داروں سے ملنے کیلئے لاہور آئیں تو ان کی ملاقات فلم ڈائریکٹر "نجم نقوی" سے ہوئی- نجم نقوی صاحب پہلے سے ہی اپنی نئی فلم "کنواری بیوہ" کیلئے کسی نئے چہرے کی تلاش میں تھے- اسکی شخصیت، دلکش مسکراہٹ، خوبصورت چہرہ اور دل کو موہ لینے والی آواز نجم نقوی کو بہت بھائی- چنانچہ انہوں نے پتلی بائی کو "کنواری بیوہ" میں شمیم آرا کے نام سے متعارف کروایا- اگرچہ یہ فلم کامیابیاں سمیٹنے میں ناکام رہی لیکن پاکستان فلم انڈسٹری کو ایک نیا چہرہ ضرور مل گیا- اسی سال انہوں نے "مِس 56" میں بھی کام کیا- 1958ء میں فلم "انار کلی" میں انار کلی کی بہن کا کردار ادا کیا جبکہ 1959ء میں عالم آرا، اپنا پرایا، فیصلہ، سویرا، جائیداد، مظلوم اور راز جیسی فلموں میں کام کیا-  1960ء میں شمیم آرا نے فلم "سہیلی" میں مرکزی کردار ادا کیا-  "ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے کیا کیا نہ ہوا دل ...

Film khushboo

تصویر
فلم خوشبو ڈائریکٹر : ظفر شباب فنکار:  رانی، شاہد، ممتاز، رفعت امروزیہ، رنگیلا، نیر سلطانہ صدا بندی: گلزار علی رقص:  حمید چوہدری تدوین: بی-اے عکاسی: اظہر زین موسیقی: ایم اشرف فلمساز: اے حمید کہانی ہدایت کار: نذر شبان اس فلم میں امجد(شاہد) ایک بگڑا ہوا رئیس زادہ ہے جوکہ ہٹ دھرم اور ضدی تھا-ہرروز اس کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اس رات کسی نئی لڑکی کے ساتھ گزارے حالانکہ وہ شادی شدہ تھا- اس کام میں اس کی معاونت اس کا پرسنل سیکرٹری پارسی(رنگیلا) کرتا تھا-اگر لڑکی نہ ملتی تو وہ ڈانس کلب میں پہنچ جاتے تھے نشیلی میری ادائیں بدن گلاب میرا زمانے بھر میں بتا ہے کہیں جواب میرا امجد شادی شدہ تھا لیکن وہ اپنی بیوی کوئی عزت نہیں دیتا تھا اور ہمیشہ اس کی نگاہیں باہر تاک جھانک کرتی تھیں- پھر یوں ہوتا ہے کہ پارسی مزید لڑکیاں لانے میں ناکام ہو جاتا ہے اور اپنے صاحب کو مشورہ دیتا ہے کہ کسی پہاڑی مقام پر چلا جائے جہاں آپ کی طبیعت خوش ہو جائے- امجد پہلے تو اسے خوب جھاڑ پلاتا لیکن پھر اس کا مشورہ مان لیتا ہے- وہ دونوں پہاڑی علاقے میں پہنچ جاتے ہیں وہاں انکی گاڑی پہ...

Film Surreya bhopali

تصویر
ثریّا بھوپالی ڈائریکٹر: حسن طارق پرڈیوسر: حسن شاہ موسیقار: اے حمید شاعر: سیف الدّین سیف گلوکار: مہدی حسن، ناہید اختر،.منیر حسین فنکار: شاہد، رانی، وحید مراد، حُسنہ، اسلم، عشرت چوہدری، بہار بیگم، الاوءالدین، طالش پاکستانی فلم "ثریّا بھوپالی" 16 جولائی 1976ء کو ریلیز ہوئی اس فلم کی کہانی ایک نواب زادے اور قوالی گانے والی طوائف کے گرد گھومتی ہے- نواب زادہ یوسف راز (شاہد) جوکہ ایک شاعر تھا اور "ثریا بھوپالی(رانی)" مشہورِ زمانہ طوائف اور قوالہ جو کہ محفلوں میں نواب زادہ یوسف کا کلام گاتی اور خوب داد وصول کرتی تھی لیکن اس نے نواب زادہ یوسف کو کبھی دیکھا نہیں تھا بس ان دیکھے محبت کرتی تھی اور تنہائی میں بھی اس کا کلام گاتی رہتی تھی- نواب زادہ یوسف اپنی سالگرہ پر ثریا بھوپالی کو مدعو کرتا ہے اور ادھر اپنے دوست دلدار(وحید مراد) کو دعوت دیتے وقت کہتا ہے کہ تیرا اور ثریا بھوپالی کا قوالی کا مقابلہ ہو گا- سالگرہ والے دن ثریا بھوپالی "شمع سے کہتا تھا پروانہ (مہدی حسن..ناہید  عشق حقیقت حسن فسانہ" اختر..منیر حسین) گا کر میدان مار لیتی ہے جبکہ دلدار مقابلہ تو ہار جا...