Film khushboo
فلم خوشبو
ڈائریکٹر : ظفر شباب
فنکار: رانی، شاہد، ممتاز، رفعت امروزیہ، رنگیلا، نیر سلطانہ
صدا بندی: گلزار علی
رقص: حمید چوہدری
تدوین: بی-اے
عکاسی: اظہر زین
موسیقی: ایم اشرف
فلمساز: اے حمید
کہانی ہدایت کار: نذر شبان
اس فلم میں امجد(شاہد) ایک بگڑا ہوا رئیس زادہ ہے جوکہ ہٹ دھرم اور ضدی تھا-ہرروز اس کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اس رات کسی نئی لڑکی کے ساتھ گزارے حالانکہ وہ شادی شدہ تھا- اس کام میں اس کی معاونت اس کا پرسنل سیکرٹری پارسی(رنگیلا) کرتا تھا-اگر لڑکی نہ ملتی تو وہ ڈانس کلب میں پہنچ جاتے تھے
نشیلی میری ادائیں بدن گلاب میرا
زمانے بھر میں بتا ہے کہیں جواب میرا
امجد شادی شدہ تھا لیکن وہ اپنی بیوی کوئی عزت نہیں دیتا تھا اور ہمیشہ اس کی نگاہیں باہر تاک جھانک کرتی تھیں-
پھر یوں ہوتا ہے کہ پارسی مزید لڑکیاں لانے میں ناکام ہو جاتا ہے اور اپنے صاحب کو مشورہ دیتا ہے کہ کسی پہاڑی مقام پر چلا جائے جہاں آپ کی طبیعت خوش ہو جائے-
امجد پہلے تو اسے خوب جھاڑ پلاتا لیکن پھر اس کا مشورہ مان لیتا ہے-
وہ دونوں پہاڑی علاقے میں پہنچ جاتے ہیں وہاں انکی گاڑی پہاڑی لڑکی زینت(رانی) سے ٹکراتی ہے لیکن وہ بھی پارسی کو تھپڑ مار کے اور اس سے معافی منگوا کر چل دیتی ہے-
زینت جوان اور خوبصورت تھی اور اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی اور اس کی ماں اسکی شادی کے سپنے سجائے بیٹھی تھی.
اگلے دن امجد اور پارسی شکار کرنے کیلئے کیلئے نکلتے ہیں تو جینو(زینت) وہاں گاتی پھر رہی تھی-
"یہ وادیاں مجھ کو بلا رہی ہیں
یہ ہوائیں میرے تن میں خوشبو جگا رہی ہیں"
جب زینت اور ان کی ملاقات ہوتی ہے تو زینت پوچھتی ہے "بابو آپ ادھر کیا کر رہے ہیں" تو امجد کہتا ہے شکار کرنے آئے ہیں- زینت ایک پہاڑ کی طرف اشارہ کر کے کہتی ہے کہ آپ لوگ اس طرف چلے جائیں ادھر بہت شکار ہے-
تب امجد کہتا ہے کہ میرا شکار تو میرے سامنے کھڑا ہے جس پہ زینت آگے بڑھ کے امجد کو تین چار تھپڑ جڑ دیتی -
اس کے بعد امجد زینت سے اس بات کا بدلہ لینے کی ٹھان لیتا ہے- اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے وہ ایک رشتہ کروانے والی سے رابطہ کر کے ایک شریف زادہ بن کے زینت کے گھر اس کے ماں کے پاس اس کا رشتہ مانگنے جاتے ہیں اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہتے ہیں اور ان دونوں کی شادی ہو جاتی ہے-
شادی کرنے کے بعد امجد اسے انتقامًا ایک کمرے میں بند کر دیتا ہے اور اسے اپنی بیوی بنانے کی بجائے باہر منہ مارتا رہتا ہے اور کبھی کبھی اپنی پہلی بیوی کے پاس چلا جاتا-
زینت اسے منانے کی کوشش میں
"میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے
وہ دن آخری ہو میری زندگی کا"
گانا بھی گاتی ہے لیکن وہ نہیں مانتا-
اچانک ایک رات پارسی کا بیٹا بیمار پڑ جاتا ہے اور وہ پیسے لینے کیلئے امجد کے پاس جاتا تاکہ اپنے بیٹے کیلئے دوائی لے سکے لیکن امجد اس پر غصے ہو جاتا ہے کہ تو نے میری نیند میں خلل ڈالا اور پھر پیسے دینے سے انکار کر دیتا ہے لیکن پارسی جب گھر پہنچتا ہے تو تب تک اس کا بیٹ مر چکا تھا-
اس کے بعد پارسی جب زینت کے کھانا دینے کیلئے جاتا ہے تو زینت کو آزادی دے دیتا ہے کہ اگر وہ بھاگنا چاہتی ہے تو بھاگ جائے لیکن زینت بھاگنے سے انکار کر دیتی ہے اور کہتی ہے کہ اگر تم مجھ پہ احسان کرنا ہی چاہتے ہو تو مجھے صرف ایک بار اس کی قربت د لا دو تا کہ میں اس کے بچے کی ماں بن سکوں
اس مقصد کیلئے دونوں ایک پروگرام بناتے اور پارسی زینت کا روپ بدلا کر اسے مجد کے بستر پہنچا دیتا ہے-
وہ ایک طوفانی رات تھی جب امجد جوانی کے نشے میں چور اپنی ہی بیوی کو ایک کال گرل سمجھ کے مدہوش تھا جبکہ زینت
"یہ رات میرے لیئے بڑی یادگار ہے"
گا کر امجد کو آمادہ کر رہی تھی-رات گزارنے کے پارسی زینت کو و پس اسی کمرے میں پہنچا دیتا ہے اور دوسرے دن امجد کام کے سلسلے میں چھ ماہ کیلئے اپنے شہر سے باہر چلا جاتا ہے.
جب وہ واپس آتا ہے تو زینت کا بڑھا پیٹ دیکھ کہتا ہے کہ یہ تم کس کا ناجائز بچہ پیٹ میں پال رکھا اور پھر غصے میں آکر پارسی اور زینت کو دھکے دے کر گھر سے نکال دیتا ہے.
کچھ دنوں بعد اس کی پہلی بیوی ایک بیٹی کو جنم دے کر اس دنیا سے چلی جاتی ہے اور بچی کی پرورش امجد کی ماں کرنے لگتی ہے-
ادھر پارسی اور زینت بہن بھائی بن کے رہنے لگتے ہیں اور زینت بھی ایک بیٹی کو جنم د یتی ہے-پارسی رکشہ چلانے لگتا ہے اور زندگی بسر کرنے لگتے ہیں
وقت بیت جاتا ہے اور زینت کی بیٹی ستارہ(ممتاز) جوان ہو جاتی ہے اور ایک جوان ساجد کے ساتھ پیار کی پینگیں پانے لگتی ہے-
"دو ٹکے کا چھوکرا اور نخرے چودہ ہزار کے
بن جائے وہ انجانا جب میں گیت گاؤں پیار کے "
ستارہ ایک تیز طرار اور شرارتی لڑکی تھی
ادھر امجد کی بیٹی سلمٰی(ممتاز- ڈبل رول) بھی جوان ہو جاتی ہے اس کا باپ اس سے سخت نفرت کرتا تھا اور اسے تعلیم کے سلسلے میں ہاسٹل میں بھیج کر اس سے جان چھڑواتا ہے لیکن جب وہ گھر آتی تو ڈری سہمی سی رہتی اور بات بات پر اپنے باپ سے جھڑکیاں کھاتی تھی.
ایک دن جب وہ اپنے ڈرائیور کے ساتھ ہاسٹل سے گھر واپس آرہی تھی تو راستے میں گاڑی میں کچھ خرابی ہوجاتی اور ڈرائیور گاڑی ٹھیک کرنے کیلئے نیچے اتر جاتا ہے.
وہاں سے رکشہ لیکر گزر رہا ہوتا ہے تو گاڑی میں موجود سلمٰی کو دیکھ کر رکشے سے اتر کر گاڑی کے قریب پہنچ جاتا اور سلمٰی کو ستارہ سمجھ کر مخاطب ہوتا ہے لیکن سلمٰی اسے پہچاننے سے انکار کر دیتی ہے اور تب تک ڈرائیور گاڑی ٹھیک کر کے آکے گاڑی لیکر چلے جاتے ہیں لیکن جب پارسی گھر پہنچتا ہے تو ستارہ گھر پہ موجود ہوتی ہے-
ایک دن ستارہ اپنی ماں کے بکس میں ایک آدمی کی تصویر دیکھتی ہے تو اس کی ماں اسے بتاتی ہے کہ یہ اس کے باپ کی تصویر ہے اور اسے تمام قصے سے آگاہ کرتی ہے-
ستارہ اپنے باپ سے اپنی ماں کا بدلہ لینا چاہتی تھی اور اس مقصد کیلئے وہ اپنے باپ کا پتہ معلوم کرنے کے بعد ایک بڑھیا کا روپ دھار کر اپنے باپ کے نوکری کرنے کی غرض سے داخل ہوجاتی ہے- امجد کی ماں ستارہ کو نوکرانی رکھ لیتی-ان دنوں امجد کی بہن اور اسکی بیٹیاں گھر پہ آئی ہوئی ہوتی ہیں اور سلمٰی و ستارہ پہ حکم چلا رہی ہوتی ہیں-
ستارہ اپنے پلان کے مطابق سب سے پہلے اپنی
بہن "سلمٰی" کے منہ پہ ٹیپ لگاتی ہے اور پھر اسے ایک بورے میں ڈال کے اپنی ماں کے پاس چھوڑ آتی اور پھر اپنے باپ کو سدھارنے کیلئے اس کے پاس پہنچ جاتی-
سب سے پہلے وہ "مولا بخش" کے ذریعے اپنی پھوپھو اور اس کی بیٹیوں کو اپنے گھر سے بھگاتی ہے اور اس کی دادی یہ سب دیکھ کے خوش تو بہت ہوتی ہے لیکن ساتھ ساتھ وہ حیران بھی تھی کہ سلمٰی تو سدا کی ڈرپوک تھی پھر اس میں اتنی ہمت کہاں آگئی-تب ستارہ اپنی دادی سے اجازت مانگتی ہے کہ اب وہ اپنے باپ کو ٹھیک کرے گی لیکن اس کی دادی پہلے تو انکار کرتی ہے پھر ستارہ کے اصرار کرنے پہ مان جاتی ہے اور ستارہ شروع ہو جاتی ہے
اپنے باپ کو سگار پیتا دیکھ کر سگار اس کے منہ سے چھین کر خود پینا شروع کر دیتی ہے جس پر سیٹھ امجد کافی غصہ دکھاتا لیکن ستارہ اس سے آئندہ سگار نہ پینے کا وعدہ لے لیتی-
اس کا باپ کلب سے تاش کھیل کے واپس آتا ھے تو ستارہ گھر پہ تاش لے کے بیٹھ جاتی ہے اور باپ سے وعدہ لے لیتی ہے کہ آئندہ وہ کلب نہیں جائے گا-
ادھر پارسی کے گھر پہ موجود سلمٰی کو ستارہ سمجھ کے ساجد اپنے پاس ہونے کی خوشخبری سنانے آیا تو تو سلمٰی نے اس اجنبی کی پٹائی کر ڈالی
ستارہ اپنے باپ کو راہ راست پہ لانے کیلئے اس پہ کڑی نظریں رکھی ہوئی تھیں اور اپنے گھر کے ملازموں سے اپنے باپ کی جاسوسی کرواتی تھی.
اپنے باپ کے دفتر پہنچ کر ان کی پرسنل سیکرٹری کی پٹائی کر ڈالی اور وہ بیچاری اف تک نہ کر سکی-
اپنے باپ کے پیسوں کی تجوری کی چابی اپنے قبضے میں لے لی- ان کی نئی گاڑی خود رکھی اور ایک پرانی کھٹارا گاڑی ان کے حوالے کردی- امجد پریشان تھا کہ آخر یہ چیز کیا جو دن بدن اس پہ حاوی ہوتی جارہی تھی اور امجد اس کے فیصلوں کے سامنے سر جھکاتا چلا جارہا تھا-
راتوں کو اٹھ کے وہ
"تجھے پیار کرتے کرتے"
گاتی تھی-اس گیت کی آواز سن کے امجد کی نیند اڑ جاتی تھی اور وہ سلمٰی کے کمرے میں جاتا تو وہ سونے کا بہانہ کر کے آنکھیں بند کر لیتی-
پھر اس کے باب کی سالگرہ کا دن قریب آرہا ہوتا ہے تو وہ اپنے باپ سے کہتی ہے کہ میں آپ کی سالگرہ اس دھوم دھام سے مناؤں گی کہ آپ ساری عمر یاد رکھیں گے-
سالگرہ والے دن سلمٰی کی سہیلیاں اس سے اسرار کرتی ہیں کہ اس خوشی کے موقعہ پہ کوئی گیت سنائے لیکن وہ کہتی ہے کہ پہلے میرے باپ سے اجازت لو- اس پہ اس کی سہلیاں اس کے باپ کے سے کہتی ہیں تو امجد اجازت دے دیتا ہے-
"میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے
وہ دن آخری ہو میری زندگی کا"
اس گیت کی آواز سنتے ہی امجد کے ہاتھ سے چائے کا کپ نیچے گر جاتا ہے اور اس کے چہرے پہ ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں-
گیت کے اختتام پہ امجد سلمٰی سے پوچھتا ہے کہ یہ گیت اس نے کہاں سنا ہے تو وہ کہتی ہے اپنی ماں سے....
امجد کہتا ہے تمہاری ماں تو تمہارے پیدا ہوتے ہی اس دنیا سے چل بسی تھی جبکہ سلمٰی کہتی تھی کہ میں کیسے مان لوں کہ میری ماں مر چکی ہے جبکہ میری ماں تو زندہ ہے اور پھر وہ اپنی ماں زینت کو بلاتی ہے.
امجد کہتا ہے ٹھیک ہے تم زینت کی بیٹی لیکن تمہارا کون ہے-
زینت کہتی ہے امجد! اس کے باپ تم ہو-
امجد کہتا ہے کہ میں کیسے مان لوں تم میری بیٹی کی ماں ہو جبکہ میں نے تو تمہں بیوی کا درجہ دیا ہی نہیں تھا تو تب وہ اسے وہ طوفانی رات یاد کراتی ہے جب وہ اس کے پرسنل سیکرٹری کے ذریعے اس کے بستر کی زینتی بنتی ہے اور پارسی بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ امجد تم ستارہ کے باپ ہو
تھوڑی دیر بعد جب زینت، ستارہ، سلمٰی، ان کی دادی اماں سبھی اس کو چھوڑ کے جانے لگتے ہیں تو وہ زور سے آواز لگاتا ہے "زینت....."
"میں جس دن بھلادوں تیرا پیار دل سے
وہ دن آخری ہو میری زندگی کا"







تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں