Sabiha Kanum

Sabiha.Kanum

سلور سکرین کی گولڈن گرل

* صبیحہ خانم *

 پنجاب کے شہر گجرات میں 16 اکتوبر 1936ء کو پیدا ہوئیں- اس وقت برصغیر پر برطانوی راج تها-
اس اداکارہ نے 1950ء سے 1960ء تک پاکستان فلم انڈسٹری پہ راج کیا- اس وقت سے آج تک ان کا ایک نام ہے
صبیحہ خانم کا اصل نام "مختار بیگم" تها- والد کا نام "محمد علی" تها جن کا تعلق دہلی سے تها جبکہ "اقبال بیگم" کا تعلق امرتسر سے تها-ان دونوں کی "لو میرج" تهی.
جس طرح "هیر رانجها" "لیلی مجنوں" اور "سسی پنوں" کی جوڑیاں مشہور تهیں اسی طرح "بالو ماہیا" کی جوڑی مشہور تهی.
1948ء میں مختار بیگم اپنے والد کے ساته ان ایک دوست "الله بخش سلطان کهوسٹ" کے گهر مہمان کے طور پہ ٹهہری هوئیں تهیں-
وہاں ان لوگوں کے ساتھ وہ تهیٹر کی ریہرسل دیکهنے کیلئے گئیں تو واپس گهر آکر بولیں کہ "یہ کام تو میں بهی کر سکتی ہوں....بهلا یہ کون سا مشکل کام ہے-"
اتفاق سے دوسرے دن اس کهیل کی اداکارہ کہیں غائب ہو گئی اور تهیٹر نہ پہنچی تو اس کی جگہ اقبال بیگم کو کاسٹ کیا گیا.
انہوں یہاں ایک پرانی پنجابی فلم کا گانا گایا جس کے بول تهے-

"کتهے گیئوں پردیسا وے"

اس دن انور کمال پاشا، فضلی اور مسعود پرویز صاحب تهیٹر میں موجود تهے- انہیں اقبال بیگم کی اداکاری بہت پسند آئی اور انہوں اسے خوب سراہا.
اقبال بیگم کی اداکاری دیکھ کر جلد ہی ان کے والد محمد علی نے ڈرامہ نگار نفیس خیالی سے اپنی بیٹی کا تعارف کروایا.
نفیس خیالی نے اقبال بیگم کو "بت شکن" میں ایک رول کی آفر کی جسے اس نے قبول کر لیا.
نفیس خیالی نے اقبال بیگم کو "صبیحہ خانم" کا نام دیا.
اس کے بعد نفیس خیالی کی سفارش سے صبیحہ کو ڈائریکٹر مسعود پرویز کی فلم "بیلی" میں ایک رول مل گیا-
یہ صبیحہ کی پہلی فلم تهی اور مسعود پرویز کی ڈائریکڑ کے طور پر پہلی فلم تهی-
ریڈیو پاکستان کے ایک انٹرویو کے دوران صبیحہ خانم سے پوچها گیا کہ جس دن آپ پہلی دفعہ فلم کے سیٹ پہ گئی تهیں تو آپ نے کیا محسوس کیا تها تو وہ پہلے دن کی شوٹنگ کا واقعہ بیان کرتے ہوے بتاتی ہیں کہ "بیلی" فلم کی شوٹنگ کے پہلے دن وہ دلہن کے روپ میں میک اپ روم میں کهڑی تهیں کہ ان کو بجلی کا شدید جهٹکا لگا جس کی وجہ سے زیور نیچے گر گیا 
چونکہ یہ ان کا پہلا دن تها اور ان کو پتہ نہیں تها کہ سوئچ کہاں ہے.اسی ناسمجهی کی وجہ سے ان کا ہاتھ بجلی کے کسی سوئچ سے ٹکرا گیا اور ان کو شدید جهٹکا لگا جس کی وجہ سے وہ نیچے گر گئیں تب باہر سے لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور انہیں سنهبالنے کی کوشش کی لیکن تب تک وہ سنبهل چکی تهیں اور میک اپ روم سے باہر آگئیں
اور تهوڑی دیر شوٹنگ کرنے کے بعد ابهی وہ بیٹهی ہی تهیں کہ لڑکیوں نے "سانپ سانپ" کا شور مچا دیا-
تب وہاں پر موجود فوٹوگرافر "حمید صاحب" بولے کہ صبیحہ کیلئے یہ نیک شگون ہے اور انکی کہی ہوئی یہ بات واقعی سچ ثابت ہوئی اور واقعی اپنے دور میں صبیحہ خانم نے فلم انڈسٹری پہ چهائی رہیں
7 اپریل 1950ء میں انور کمال پاشا کی فلم "دو آنسو" ریلیز کی گئی اس فلم میں صبیحہ خانم نے نوری کا کردار ادا کیا تها اور ہیروئن کے طور پہ ان کی یہ پہلی فلم تهی-
یہ پاکستان کی پہلی فلم تهی جس کی پاکستان کے سینما گهروں میں 25 ہفتے شاندار نمائش جاری رہی- اس فلم کے نمایاں فنکاروں میں سنتوش کمار، صبیحہ خانم، اجمل اور علاوءالدین تهے.
اس کے بعد صبیحہ نے اپنی اگلی فلم "آغوش" میں مزید کامیابیاں سمیٹیں- اس فلم کے ڈائریکٹر مرتضی جیلانی تهے اور اس فلم کی کاسٹ میں صبیحہ، سنتوش اور گلشن آرا تهیں-
1953ء میں انور کمال پاشا کی "غلام" اور 1954 میں گمنام اور سوہنی  میں کام کیا.
1956ء میں ایم ایس ڈار کی فلم "دلا بهٹی" نمائش کیلئے پیش کی گئی- اس فلم میں صبیحہ نے نوراں کا کردار ادا کیا- یہ فلم سپرہٹ رہی اور سینما گهروں میں گولڈن جوبلی منائی.
واسطہ ای رب دا توں جاویں وے کبوترا
چٹهی میرے ڈهول نوں پہنچاویں وے کبوترا
فلم "دلا بهٹی" میں صبیحہ خانم پر فلمایا گیا یہ گیت بہت مشہور ہوا اور اس دور میں زبان زد عام تها.
اس گیت میں صبیحہ خانم کبوتر اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوے ہوتی ہیں اور گانے کے اختتام میں اسے اپنے ڈهول کی طرف جانے کیلئے فضا میں چهوڑ دیتی ہیں- 

پنجابی مٹیار

اس فلم میں نوراں کا کردار ادا کر کے صبیحہ نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ بهی پنجابی مٹیار کا رول بڑے احسن طریقے سے نبها سکتی ہیں ورنہ اس سے پہلے "مسرت نذیر" کو ہی پنجابی مٹیار تصور کیا جاتا تها-
1957ء میں رومانٹک فلم "وعدہ" ریلیز ہوئی اور یہی وه فلم تهی جس کی شوٹنگ کے دوران صبیحہ اور سنتوش کی محبت پروان چڑه رہی تهی.یہ فلم ایک سپر ہٹ فلم رہی
فلم وعدہ کی شوٹنگ کے دوران پروان چڑهنے والی محبت یکم اکتوبر 1958ء کو فلم "حسرت" کی شوٹنگ کے دوران پائہ تکمیل کو پہنچی اور اس دن صبیحہ، سنتوش کی جوڑی اپنی حقیقی زندگی میں بهی ایک ہوگئی-
سنتوش کمار کی یہ دوسری شادی تهی ان کی پہلی بیوی کا نام "جمیلہ" تها جو کہ خاتون خانہ تهیں اور انہیں اس شادی پر کوئی اعتراض نہ تها-
سلور سکرین کی گولڈن گرل صبیحہ خانم نے بہت سی فلموں میں کام کیا جن میں: دل میں تو، مکهڑا،داتا، عشرت، شکوه، رشتہ، موسیقار، پاک دامن، ایاز، راہ گزر، شیخ چلی، آس پاس، سسی، چهوٹی بیگم، حاتم، سات لاکھ، محفل، پرواز، طوفان، کنیز، دیور بهابهی، شام ڈهلے، انجام، سرفروش، انتقام، قاتل، سوال، کمانڈر، تہذیب، انجمن، دیوانہ اور اک گناہ اور سہی شامل ہیں.
صبیحہ خانم نے فنکاری کے ساتھ ساتھ کچھ فلموں میں گلوکاری بهی کی-
1982ء میں انہوں نے دو مشہور ملی نغمے گائے
"سوہنی دهرتی اللہ رکهے قدم قدم آباد تجهے"
"جگ جگ جئے میرا پیارا وطن"
11 جون 1982 کو ان کے شوہر اور پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور فنکار "سنتوش کمار" انتقال کر گئے.ان کے انتقال کے بعد صبیحہ خانم کو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا-
صبیحہ خانم وہ پہلی اداکارہ ہیں جہنوں نے 1986ء میں گورنمنٹ آف پاکستان سے حسن کارکردگی کی بنا پر "ستارہ امتیاز" وصول کیا-
ان دنوں وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ امریکہ میں قیام پذیر ہیں.


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Filmstar babra shareef

Film star Firdos

Filmstar santosh kumar