Filmstar nadeem

 اداکار ندیم

پاکستان فلم انڈسٹری کے ایک نامور اور اپنے وقت کے سب سے مہنگے ہیرو "مرزا نذیر بیگ مغل" 19 جولائی 1941ء کو آندرا پردیش (بھارت) میں پیدا ہوئے-

وہ ایک شرمیلا سا نوجوان تھا اور اداکاری کا تو اسے نہ ہی شوق تھا اور نہ ہی کبھی اداکاری کرنے کیلئے سکول و کالج کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے- البتہ فنِ موسیقی سے انہیں گہرا لگاؤ تھا اور اکثر اپنے پسندیدہ گلوکار "مکیش " کے گانے گنگناتے رہتا تھا- اسی بنا پر وہ زمانہء طالبِ علمی سے ہی گلوکاری میں مشہور تھا- 
اپنی خوہش کی تکمیل کیلئے اس وقت کے مشہور موسیقار "نثار بزمی" کی شاگردی اختیار کرنے کیلئے اس کے گھر کے چکر بھی لگایا کرتے تھے-وہ اس مقصد میں کامیاب بھی ہوگئے اور کچھ دن ان کی شاگردی بھی کی-
کالج سے فارغ ہونے کے بعد وہ موسیقی کی مختلف محفلوں میں بھی جانے لگے.
خاص طور پہ اسلامیہ کلب سولجر بازار میں جب بھی موسیقی کی کوئی محفل منعقد ہوتی تو اس میں ضرور حصہ لیتے اور گلوکار مکیش کے گانے پیش کرتے-
انہی دنوں بمبینو سینما کے مالک نے"سہرا" نام سے فلم کا اعلان کیا اور فلم کا افتتاح ایک شاندار گانے کی ریکارڈنگ سے کیا گیا-چونکہ اس فلم کے موسیقار نثار بزمی تھے اسلئے انہوں نے یہ گیت نذیر بیگ کی آواز میں ریکارڈ کروایا تھا- یہ گیت ریکارڈ کروانے کے بعد نذیر بیگ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا لیکن جلد ہی ان کی خوشیوں کو نظر لگ گئی اور یہ فلم تنازعات کا شکار ہوگئی اور اس فلم کی مزید شوٹنگ نہ ہو سکی-
ایک بار ان کا موزیکل گروپ ڈھاکا گیا تو اس گروپ میں نذیر بیگ بھی شامل تھا-
وہاں میوزک کے پرگراموں میں ان کی گلوکاری کو بہت پسند کیا گیا-
وہاں پہ آپ کو دو  فلموں "کیسے کہوں" اور "یگانہ" میں وہاں کی مشہور گلوکارہ فردوسی بیگم کے ساتھ گیت ریکارڈ کروانے کا موقعہ ملا-
وہ فلمیں ڈھاکہ میں ریلیز ہوئیں اور اس کے بعد نذیر بیگ کو مذید آفرز ملنے لگیں-
ڈھاکا کا ایک مشہور فلم ساز کیپٹن احتشام اپنی بیٹی کی سالگرہ ہر سال بڑی دھوم سے مناتا تھا اور اس کی شہرت کی وجہ سے ڈھاکہ کی فلم انڈسٹری کے نامور گلوکار و فنکار سالگرہ کی اس تقریب میں مدعو کئے جاتے تھے-
نذیر بیگ کو بھی کسی طرح اس تقریب میں جانے کی دعوت مل گئی جبکہ اس وقت کا ڈھاکہ کا ایک مشہور ہیرو " عظیم" اس محفل میں شریک نہ ہوا اور وہ احتشام کی نئی فلم کا ہیرو بھی تھا شاید معاوضے کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان معاملہ طے نہیں پا رہا تھا-لیکن کوئی وجہ تھی کہ جس کی بنا پہ "عظیم نے اس تقریب میں شرکت نہیں کی تھی-
احتشام نے جب اپنی بیٹی کی سالگرہ کی تقریب کی بنائی گئی وڈیو دیکھی تو تو اسے نذیر بیگ کا گانے کا انداز بہت پسند آیا-
چونکہ احتشام کو اپنی نئی فلم کیلئے ہیرو کی تلاش تھی کیونکہ عظیم کے ساتھ ان کے معاملات طے نہ پاسکے-چنانچہ ایک فوٹو شوٹ کروانے کے نذیر بیگ کو اپنی فلم کے مرکزی رول کیلئے سلیکٹ کر لیا-
اس فلم کا نام "چکوری" رکھا گیا اور فلمی دنیا میں نذیر بیگ کیلئے "ندیم" نام تجویز کیا گیا اور اس فلم کی مشرقی پاکستان سے لیکر مغربی پاکستان تک نمائش کی گئی-
یہ فلم 23 مارچ 1967ء کو عیدالاضحٰی والے دن ریلیز کی گئی-
سینما گھروں کے سامنے لگے بورڈوں پر ندیم کی تصویریں اس انداز سے چپساں کی گئیں کہ ان میں ہندوستان کے مشہور فنکار "دلیپ کمار" کی جھلک نظر آتی تھی-

"کہاں ہو تم کو ڈھونڈھ رہی ہیں یہ بہاریں یہ سماں
وہاں وہاں ہم ملیں گے تم سے، ہمیں پکارو جہاں جہاں"
یہ گیت ندیم اور اس وقت کی مشہور گلوکار فردوسی رحمان کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا تھا- 
"کبھی تو تم کو یاد آئیں گی وہ بہاریں وہ سماں
جھکےجھکے بادلوں کے نیچےملے تھے ہم تم جہاں جہاں"
یہ گیت احمد رشدی نے گایا تھا-
چکوری کے یہ گیت بہت پسند کئے گئے اور اس فلم میں ندیم کی اداکاری دیکھ کر فلم بینوں نے انہیں "جونیئر دلیپ کمار" کا خطاب دے ڈالا-
اس کے بعد نذیر بیگ  "ندیم" کے نام سے فلمی ستاروں میں نمایاں نظر آنے لگے-
1967ء میں "چھوٹے صاحب" ریلیز ہوئی
اپنی سالگرہ کی تقریب میں دیکھنے کے بعد کیپٹن احتشام کی بیٹی فرزانہ بھی نذیر بیگ کو پسند کرنے لگی تھی اور پھر دونوں خاندانوں کی باہم مرضی سے ندیم اور فرزانہ کی شادی کرا دی گئ-
1968ء میں سنگدل میں نمودار ہوئے 
"ہو سن لے جانِ وفا، ہو سن لے جانِ وفا
تو ہے دنیا مری، ہے زندگی مری
کبھی ہونگے نہ ہم تم جدا"
احمد زشدی اور مالا کے گائے ہوے یہ گیت کافی پسند کئے گئے-
چھوٹے صاحب اور سنگدل نے ندیم کیلئے ترقی کی راہیں ہموار کیں-
اسی سال "تم میرے ہو" "چاند اور چاندنی" "میں کہاں منزل کہاں " "بہن بھائی" "قلی" اور " پڑوسی" جیسی فلموں میں اداکاری کی-
1971ء میں ان کی فلم "جلتے سورج کے نیچے" ریلیز ہوئی- اس فلم میں ندیم نے تین رول ادا کئے اور یوں انہیں سب سے پہلے تین رول ادا کرنے والے فنکار کا اعزاز حاصل ہوا.اسی ان کی مزید فلمیں "پرائی آگ" "آنسو" اور "چراغ کہاں روشنی کہاں " ریلیز ہوئیں
سقوطِ ڈھاکہ کے بعد وہ وہاں سے لاہور منتقل ہوگئے-
1973ء میں  "نادان" ریلیز ہوئی اس فلم نے بھی کامیابیاں سمیٹیں اور آپ کو بیسٹ ایکٹر کا ایوارڈ دیا گیا-
1975ء میں "اناڑی" "پہچان" 1976ء "تلاش" 1977ء "آئینہ" 1980 "ہم دونوں " 1981 ء "لاجواب" "قربانی" 1982ء "سنگدل" اور 1987ء "دہلیز" ندیم کے کیرئیر کی سپر ہٹ فلمیں رہیں لیکن "آئینہ" آپ کے کیرئیر کی ایسی فلم ہے جس کی کراچی کے سینما میں پانچ سال تک نمائش جاری رہی اور ان فلموں اچھی اداکاری کرنے پر ندیم کو بیسٹ ایکٹر کے ایوارڈ دیئے گئے.
1988ء مکھڑا ریلیز ہوئی اس میں آپکی ساتھی اداکارہ بابرہ شریف تھیں اس فلم میں میڈم نورجہاں کے ساتھ آپکا گایا ہوا گیت " منڈیا دوپٹہ چھڈ میرا"بہت مقبول ہوا
(جاری)





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Filmstar babra shareef

Film star Firdos

Filmstar santosh kumar