Film star zeba
فلمسٹار زیبا علی
فلمسٹار زیبا
پنجاب کے شہر انبالہ میں برطانوی راج کے دوران پیدا ہوئیں-
پنجاب کے شہر انبالہ میں برطانوی راج کے دوران پیدا ہوئیں-
ان کا اصل نام "شاہین" تھا لیکن فلمی دنیا میں انہوں نے "زیبا" کے نام سے شہرت پائی-
وہ 1960 سے 1970ء کی دہائی کی مشہور و معروف اداکاراوءں میں سے ایک تھیں-
فلمی دنیا میں آنے سے قبل زیبا کی شادی "خواجہ رحمت علی" سے 1959ء میں ہوئی تھی
1961ء میں پرڈیوسر نور محمّد خان نے انہیں اپنی فلم "زندگی" میں ہیروئن کی پیشکش کی لیکن چند وجوہات کی بنا پر اس فلم کی شروعات نہ ہو سکیں- تب انہوں نے فلم "شاکر" کی قبول کر لی اس فلم کے ہیرو "عارف" تھے اور یہ فلم 1962ء میں "چراغ جلتا رہا" کے نام سے ریلیز ہوئی
محمّد علی اور زیبا کی پہلی ملاقات اسی فلم کے سیٹ پر ہوئی تھی اس فلم میں زیبا کے ساتھی اداکاروں میں محمّد علی کے ساتھ کمال ایرانی بھی شامل تھے اسی سال انکی دوسری فلم "جب سے دیکھا ہے تمہیں" ریلیز ہوئی جو کہ ایک کامیاب فلم ثابت ہوئی-
1963ء میں "باجی" ریلیز ہوئی- یہ بھی ایک کامیاب فلم رہی
1964ء میں "توبہ" آئی اور اس فلم نے سینما گھروں میں گولڈن جوبلی منائی اس فلم میں آپکا جوڑی دار وحید مراد تھا جوکہ اس وقت ایک پرڈیوسر تھا اور زیبا کی وحید مراد کے ساتھ یہ پہلی فلم تھی-اسی سال زیبا کی دوسری شادی سدھیر کے ساتھ ہوئی لی
وحید مراد کے ساتھ زیبا کی دوسری فلم " ہیرا اور پتھر" تھی جو کہ 1965ء میں ریلیز ہوئی
رنگین سکرین متعارف ہونے کے بعد آپ "نجما" میں جلوہ گر ہوئیں جوکہ آپ کی پہلی رنگین فلم تھی- ان دنوں آپ نے ایک شارٹ فلم "رشتہ ہے پیار کا" میں بھی کام کیا-
18 مارچ 1966ء میں ارمان ریلیز ہوئی
اس فلم میں احمد رشدی کے گائے ہوے گانے
"میرے خیالوں پہ چھائی ہے اک صورت متوالی سی
نازک سی، شرمیلی سی، معصوم سی بھولی بھالی سی
رہتی ہے وہ دور کہیں اتا پتہ نہیں کو کو کورینا"
اور "اکیلے نہ جانا" بہت پسند کئے گئے اور آج تک یہ گیت بڑے شوق سے سنے جاتے ہیں-
یہ پاکستان کی پہلی پلاٹینیم جوبلی فلم کہلاتی ہے جو کہ وحید مراد نے پرڈیوس کی اور ڈائریکٹر پرویز ملک تھے-اس فلم کی پذیرائی کے بعد آپ کو,بیسٹ ایکٹریس کا ایوارڈ دیا گیا-اسی سال وحید مراد اور زیبا نے مزید دو فلموں میں اکٹھے کام کیا-ان فلموں کے نام "جوش" اور "جاگ اٹھا انسان" ہیں-
سدھیر سے علیحدگی کے بعد زیبا نے 29 ستمبر 1966ء کو فلم "تم ملے پیار ملا" کی شوٹنگ کے دوران فلمسٹار محمّد علی سے شادی کر لی- یہ زیبا کی تیسری شادی تھی اور اس فلم کے نام کی طرح زیبا کو جتنا پیار محمّد علی سے ملا شاید ہی دوسرے شوہروں سے ملا ہو-لیکن محمّد علی کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی- زیبا کی پہلی شادی سے ایک بیٹی ثمینہ تھی جسے انہوں نے ثمینہ علی کا نام دیا اور اسی کی پرورش کی.
1965ء سے 1969ء تک زیبا نے بہت سی فلموں میں کام کیا- جن میں "عید مبارک"کنیز، دردِ دل ، کوہِ نور، جوش، آگ، جیسے جانتے نہیں، سہاگن، تاج محل، انجان، محبت رنگ لائے گی، اک پھول اک پتھر اور بہو رانی شامل ہیں-
1970ء میں شباب کیرانوی کی فلم "انسان اور آدمی" میں بوڑھی عورت کا کردار ادا کیا-
اس فلم میں میڈم نور جہاں کی آواز میں یہ گیت
"زمانے کی نظروں میں مَیں بے وفا ہوں
خطا بس یہی ہے کہ میں بے خطا ہوں"
"تُو جہاں کہیں بھی جائے میرا پیار یاد رکھنا"
بہت پنسد کئے گئے اور آج بھی ماضی کے ان گیتوں کو بڑے شوق سے سنا جاتا ہے-
یہ فلم سپرہٹ رہی اور آپ کے کردار کو بہت سراہا گیا-اس بنا پر زیبا کو بیسٹ ایکٹریس کا ایوارڈ دیا گیا-
1972ء میں ان کی ایک یادگار فلم "محبت" ریلیز ہوئی-اس فلم نے بھی ریکارڈ ساز کامیابیاں سمیٹیں اس فلم کے گانے بھی کافی پسند کئے گئے-
"اگر کوئی پوچھے بہاروں کا مطلب
بتا دوں گا تیری اداءوں کا نام"
اور ایک بار پھر زیبا کو بیسٹ ایکٹریس کے ایوارڈ سے نوازا گیا-اسی سال "عورت ایک پہیلی، نوکر، محبت زندگی ہے اور جب جب پھول کھلے جیسی فلمیں ریلیز ہوئیں-
1989ء میں انہوں نے محمّد علی کے ساتھ ہندی فلم "کلرک" میں کام کیا- ان کی آخری فلم "محبت ہو تو ایسی" 1989ء میں ریلیز ہوئی- اس فلم میں ان کے ساتھی اداکار محمد علی تھے-
19 مارچ 2006ء کو ان کی زندگی کے ساتھی اور پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور فنکار محمّد علی انتقال کر گئے-
وہ 1960 سے 1970ء کی دہائی کی مشہور و معروف اداکاراوءں میں سے ایک تھیں-
فلمی دنیا میں آنے سے قبل زیبا کی شادی "خواجہ رحمت علی" سے 1959ء میں ہوئی تھی
1961ء میں پرڈیوسر نور محمّد خان نے انہیں اپنی فلم "زندگی" میں ہیروئن کی پیشکش کی لیکن چند وجوہات کی بنا پر اس فلم کی شروعات نہ ہو سکیں- تب انہوں نے فلم "شاکر" کی قبول کر لی اس فلم کے ہیرو "عارف" تھے اور یہ فلم 1962ء میں "چراغ جلتا رہا" کے نام سے ریلیز ہوئی
محمّد علی اور زیبا کی پہلی ملاقات اسی فلم کے سیٹ پر ہوئی تھی اس فلم میں زیبا کے ساتھی اداکاروں میں محمّد علی کے ساتھ کمال ایرانی بھی شامل تھے اسی سال انکی دوسری فلم "جب سے دیکھا ہے تمہیں" ریلیز ہوئی جو کہ ایک کامیاب فلم ثابت ہوئی-
1963ء میں "باجی" ریلیز ہوئی- یہ بھی ایک کامیاب فلم رہی
1964ء میں "توبہ" آئی اور اس فلم نے سینما گھروں میں گولڈن جوبلی منائی اس فلم میں آپکا جوڑی دار وحید مراد تھا جوکہ اس وقت ایک پرڈیوسر تھا اور زیبا کی وحید مراد کے ساتھ یہ پہلی فلم تھی-اسی سال زیبا کی دوسری شادی سدھیر کے ساتھ ہوئی لی
وحید مراد کے ساتھ زیبا کی دوسری فلم " ہیرا اور پتھر" تھی جو کہ 1965ء میں ریلیز ہوئی
رنگین سکرین متعارف ہونے کے بعد آپ "نجما" میں جلوہ گر ہوئیں جوکہ آپ کی پہلی رنگین فلم تھی- ان دنوں آپ نے ایک شارٹ فلم "رشتہ ہے پیار کا" میں بھی کام کیا-
18 مارچ 1966ء میں ارمان ریلیز ہوئی
اس فلم میں احمد رشدی کے گائے ہوے گانے
"میرے خیالوں پہ چھائی ہے اک صورت متوالی سی
نازک سی، شرمیلی سی، معصوم سی بھولی بھالی سی
رہتی ہے وہ دور کہیں اتا پتہ نہیں کو کو کورینا"
اور "اکیلے نہ جانا" بہت پسند کئے گئے اور آج تک یہ گیت بڑے شوق سے سنے جاتے ہیں-
یہ پاکستان کی پہلی پلاٹینیم جوبلی فلم کہلاتی ہے جو کہ وحید مراد نے پرڈیوس کی اور ڈائریکٹر پرویز ملک تھے-اس فلم کی پذیرائی کے بعد آپ کو,بیسٹ ایکٹریس کا ایوارڈ دیا گیا-اسی سال وحید مراد اور زیبا نے مزید دو فلموں میں اکٹھے کام کیا-ان فلموں کے نام "جوش" اور "جاگ اٹھا انسان" ہیں-
سدھیر سے علیحدگی کے بعد زیبا نے 29 ستمبر 1966ء کو فلم "تم ملے پیار ملا" کی شوٹنگ کے دوران فلمسٹار محمّد علی سے شادی کر لی- یہ زیبا کی تیسری شادی تھی اور اس فلم کے نام کی طرح زیبا کو جتنا پیار محمّد علی سے ملا شاید ہی دوسرے شوہروں سے ملا ہو-لیکن محمّد علی کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی- زیبا کی پہلی شادی سے ایک بیٹی ثمینہ تھی جسے انہوں نے ثمینہ علی کا نام دیا اور اسی کی پرورش کی.
1965ء سے 1969ء تک زیبا نے بہت سی فلموں میں کام کیا- جن میں "عید مبارک"کنیز، دردِ دل ، کوہِ نور، جوش، آگ، جیسے جانتے نہیں، سہاگن، تاج محل، انجان، محبت رنگ لائے گی، اک پھول اک پتھر اور بہو رانی شامل ہیں-
1970ء میں شباب کیرانوی کی فلم "انسان اور آدمی" میں بوڑھی عورت کا کردار ادا کیا-
اس فلم میں میڈم نور جہاں کی آواز میں یہ گیت
"زمانے کی نظروں میں مَیں بے وفا ہوں
خطا بس یہی ہے کہ میں بے خطا ہوں"
"تُو جہاں کہیں بھی جائے میرا پیار یاد رکھنا"
بہت پنسد کئے گئے اور آج بھی ماضی کے ان گیتوں کو بڑے شوق سے سنا جاتا ہے-
یہ فلم سپرہٹ رہی اور آپ کے کردار کو بہت سراہا گیا-اس بنا پر زیبا کو بیسٹ ایکٹریس کا ایوارڈ دیا گیا-
1972ء میں ان کی ایک یادگار فلم "محبت" ریلیز ہوئی-اس فلم نے بھی ریکارڈ ساز کامیابیاں سمیٹیں اس فلم کے گانے بھی کافی پسند کئے گئے-
"اگر کوئی پوچھے بہاروں کا مطلب
بتا دوں گا تیری اداءوں کا نام"
اور ایک بار پھر زیبا کو بیسٹ ایکٹریس کے ایوارڈ سے نوازا گیا-اسی سال "عورت ایک پہیلی، نوکر، محبت زندگی ہے اور جب جب پھول کھلے جیسی فلمیں ریلیز ہوئیں-
1989ء میں انہوں نے محمّد علی کے ساتھ ہندی فلم "کلرک" میں کام کیا- ان کی آخری فلم "محبت ہو تو ایسی" 1989ء میں ریلیز ہوئی- اس فلم میں ان کے ساتھی اداکار محمد علی تھے-
19 مارچ 2006ء کو ان کی زندگی کے ساتھی اور پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور فنکار محمّد علی انتقال کر گئے-







تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں