اشاعتیں

Filmstar shameem aara

تصویر
شمیم آرا پاکستان فلم انڈسٹری کی ایک مایہ ناز فنکارہ "پُتلی بائی" بھارت کے شہر علی گڑھ میں 1938ء کو پیدا ہوئی- 1956ء میں پتلی بائی اپنے رشتے داروں سے ملنے کیلئے لاہور آئیں تو ان کی ملاقات فلم ڈائریکٹر "نجم نقوی" سے ہوئی- نجم نقوی صاحب پہلے سے ہی اپنی نئی فلم "کنواری بیوہ" کیلئے کسی نئے چہرے کی تلاش میں تھے- اسکی شخصیت، دلکش مسکراہٹ، خوبصورت چہرہ اور دل کو موہ لینے والی آواز نجم نقوی کو بہت بھائی- چنانچہ انہوں نے پتلی بائی کو "کنواری بیوہ" میں شمیم آرا کے نام سے متعارف کروایا- اگرچہ یہ فلم کامیابیاں سمیٹنے میں ناکام رہی لیکن پاکستان فلم انڈسٹری کو ایک نیا چہرہ ضرور مل گیا- اسی سال انہوں نے "مِس 56" میں بھی کام کیا- 1958ء میں فلم "انار کلی" میں انار کلی کی بہن کا کردار ادا کیا جبکہ 1959ء میں عالم آرا، اپنا پرایا، فیصلہ، سویرا، جائیداد، مظلوم اور راز جیسی فلموں میں کام کیا-  1960ء میں شمیم آرا نے فلم "سہیلی" میں مرکزی کردار ادا کیا-  "ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے کیا کیا نہ ہوا دل ...

Film khushboo

تصویر
فلم خوشبو ڈائریکٹر : ظفر شباب فنکار:  رانی، شاہد، ممتاز، رفعت امروزیہ، رنگیلا، نیر سلطانہ صدا بندی: گلزار علی رقص:  حمید چوہدری تدوین: بی-اے عکاسی: اظہر زین موسیقی: ایم اشرف فلمساز: اے حمید کہانی ہدایت کار: نذر شبان اس فلم میں امجد(شاہد) ایک بگڑا ہوا رئیس زادہ ہے جوکہ ہٹ دھرم اور ضدی تھا-ہرروز اس کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اس رات کسی نئی لڑکی کے ساتھ گزارے حالانکہ وہ شادی شدہ تھا- اس کام میں اس کی معاونت اس کا پرسنل سیکرٹری پارسی(رنگیلا) کرتا تھا-اگر لڑکی نہ ملتی تو وہ ڈانس کلب میں پہنچ جاتے تھے نشیلی میری ادائیں بدن گلاب میرا زمانے بھر میں بتا ہے کہیں جواب میرا امجد شادی شدہ تھا لیکن وہ اپنی بیوی کوئی عزت نہیں دیتا تھا اور ہمیشہ اس کی نگاہیں باہر تاک جھانک کرتی تھیں- پھر یوں ہوتا ہے کہ پارسی مزید لڑکیاں لانے میں ناکام ہو جاتا ہے اور اپنے صاحب کو مشورہ دیتا ہے کہ کسی پہاڑی مقام پر چلا جائے جہاں آپ کی طبیعت خوش ہو جائے- امجد پہلے تو اسے خوب جھاڑ پلاتا لیکن پھر اس کا مشورہ مان لیتا ہے- وہ دونوں پہاڑی علاقے میں پہنچ جاتے ہیں وہاں انکی گاڑی پہ...

Film Surreya bhopali

تصویر
ثریّا بھوپالی ڈائریکٹر: حسن طارق پرڈیوسر: حسن شاہ موسیقار: اے حمید شاعر: سیف الدّین سیف گلوکار: مہدی حسن، ناہید اختر،.منیر حسین فنکار: شاہد، رانی، وحید مراد، حُسنہ، اسلم، عشرت چوہدری، بہار بیگم، الاوءالدین، طالش پاکستانی فلم "ثریّا بھوپالی" 16 جولائی 1976ء کو ریلیز ہوئی اس فلم کی کہانی ایک نواب زادے اور قوالی گانے والی طوائف کے گرد گھومتی ہے- نواب زادہ یوسف راز (شاہد) جوکہ ایک شاعر تھا اور "ثریا بھوپالی(رانی)" مشہورِ زمانہ طوائف اور قوالہ جو کہ محفلوں میں نواب زادہ یوسف کا کلام گاتی اور خوب داد وصول کرتی تھی لیکن اس نے نواب زادہ یوسف کو کبھی دیکھا نہیں تھا بس ان دیکھے محبت کرتی تھی اور تنہائی میں بھی اس کا کلام گاتی رہتی تھی- نواب زادہ یوسف اپنی سالگرہ پر ثریا بھوپالی کو مدعو کرتا ہے اور ادھر اپنے دوست دلدار(وحید مراد) کو دعوت دیتے وقت کہتا ہے کہ تیرا اور ثریا بھوپالی کا قوالی کا مقابلہ ہو گا- سالگرہ والے دن ثریا بھوپالی "شمع سے کہتا تھا پروانہ (مہدی حسن..ناہید  عشق حقیقت حسن فسانہ" اختر..منیر حسین) گا کر میدان مار لیتی ہے جبکہ دلدار مقابلہ تو ہار جا...

Film star Rani

تصویر
اداکارہ رانی پاکستان فلم انڈسٹری کی ایک مایہ ناز اداکارہ "رانی" پنجاب کے شہر لاہور میں پیدا ہوئیں- ان کا اصل نام ناصرہ تھا لیکن فلمی دنیا میں "رانی" کے نام سے مشہور ہوئیں- انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1962ء میں انور کمال پاشا کی فلم "محبوب" سے کیا-اگلے چند سالوں میں رانی نے کافی فلموں میں کام کیا جن میں"اک تیرا سہارا، موج میلہ، عورت کا پیار، چھوٹی امی، اک دل دو دیوانے، شطرنج اور سفید خون"شامل ہیں لیکن یہ فلمیں کامیابی حاصل نہ کر سکیں اور ان کو منحوس کرار دے کر ان پر "منحوسیت" کا ٹھپہ لگا دیا گیا اسی بنا پر کیریئر کے آغاز میں انہیں کافی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا- 1965ء میں "ہزار داستان" ریلیز ہوئی جو کہ ایک کامیاب فلم رہی. اس فلم میں "محمد علی" نے بھی اپنی فنکاری کے جوہر دکھائے- اس فلم میں رانی پر فلمائی گئی ایک نعت شریف "بے سہاروں کے سہارا یامحمّد آپ ہیں" عوام میں بہت پسند کی گئی- اسی سال آپ کی مزید فلمیں "آخری اسٹیشن، عورت، ناچے ناگن باجے بین، صنم، ساز و آواز، شبنم اور یہ جہان والے...

Film star Firdos

تصویر
اداکارہ فردوس پاکستان فلم انڈسٹری کی ایک نامور اداکارہ جن کا اصلی نام "پروین" تھا لیکن فلمی دنیا میں وہ "فردوس" کے نام سے مشہور ہوئیں- 1963ء میں وہ پہلی دفعہ فلم "فانوس" میں ایک رقاصہ کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں- اس فلم کی کہانی ایک بھوت حویلی کے گرد گھومتی ہے جو کہ کسی دور میں نواب خاندان کی تھی لیکن اب وہ ویران پڑی تھی اور اس میں وہ دقاصہ رقص کرتی - ان کے کیرئیر کی یہ پہلی فلم ہی فلاپ ہوگئی- فردوس نے جب اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا تو ان کی ابتدائی فلمیں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہیں جن میں "خاندان، ملنگ، لائی لاگ اور عورت شامل ہیں- 1965ء میں "ملنگی" ریلیز ہوئی جو کہ ایک کامیاب فلم رہی-اس فلم میں نور جہاں کا گایا ہوا گیت بہت مقبول ہوا. "ماہی وے سانوں بھل نہ جاویں" یہ گیت فردوس پر فلمایا گیا اور عوام میں بہت مقبول ہوا- اس کے بعد اداکار "اکمل" کے ساتھ ان کی دو فلمیں "اکبرا" اور "چاچا جی" ریلیز ہوئیں جوکہ کامیاب فلمیں رہیں- ان فلموں کی شوٹنگ کے دوران فردوس اور اکمل کے افیئر...

Filmstar ijaz durani

تصویر
        پاکستان فلم انڈسٹری کا رانجھا اعجاز  درانی پاکستان فلم انڈسٹری کا یہ نامور فنکار 1935ء کو جلال پور جٹاں، گجرات میں پیدا ہوئے- انہوں نے B.A کا امتحان جہلم سے پاس کیا-ان کے فلمی کیرئیر کا آغاز 1956ء میں فلم "حمیدہ" سے ہوا- 1957ء میں "بڑا آدمی"ریلیز ہوئی 19اکتوبر 1959ء کو اعجاز نے پاکستان کی مشہور فنکارہ اور گلوکار ملکہء ترنم نور جہاں سے شادی کی- اعجاز کی کامیابی میں نور جہاں کا بڑا ہاتھ تھا- اسی سال اس نے "سولہ آنے" جبکہ 1960ء میں "سلمہ" اور "ڈاکو کی لڑکی" جیسی فلموں میں کام کیا- 1962ء میں شہید، عذرا اور "برسات میں" جیسی فلموں میں نمودار ہوے جبکہ 1964 کی گہرا داغ، بیٹی، دیوانہ اور چنگاری ہیں- 1967ء میں لوک داستان پر مشتمل فلم "مرزا جٹ" ریلیز ہوئی-یہ فلم بہت کافی کامیاب رہی- اس فلم میں اعجاز اور فردوس نے مرکزی کردار ادا کیے جبکہ دیگر فنکاروں میں عالیہ، اقبال حسن اور الیاس کشمیری شامل ہیں-"لاکھوں میں ایک" یہ فلم بھی سپر ہٹ رہی. 1968ء میں بہن بھائی، میں زندہ ہوں، بیٹی بیٹا، بزدل، دیا او...

Filmstar santosh kumar

تصویر
سنتوش کمار پاکستان فلم انڈسٹری کے ایک مایہ ناز اداکار سیّد موسٰی رضا 25 دسمبر 1925ء کو بھارت کے شہر اتر پردیش میں پیدا ہوئے- ان دنوں بھارت پہ برطانوی راج تھا- آپ کا تعلق بہترین اردو بولنے والی فیملی سے تھا جوکہ بھارت کے شہر اترپردیش میں رہائش پذیر تھی- سنتوش نے حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور پھر وھیں پری ایجوکیشن کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا- آپ کو گورنمنٹ جاب کی آفر ہوئی لیکن آپ کے ارادے کچھ اور تھے- سنتوش کمار 1950ء سے 1960ء کی دہائی کے ایک مشہور و معروف اور ایک بہترین رومانٹک اداکار کے طور پر جانے جاتے ہیں- آپ کے بھائی "درپن" بھی اس وقت فلمی دنیا سے جڑے ہوئے تھے اور سلیمان فلم ڈائریکٹر تھا- سنتوش کمار نے اپنے فلمی کیریئر کا آغار فلم "آہستہ" سے کیا جو کہ 1947ء میں بھارت میں رہلیز ہوئی- قیامِ پاکستان کے بعد 1950ء میں آپ نے فلم "بیلی" میں کام کیا جو پاکستان میں آپ کی پہلی فلم تھی- اسی سال آپکی ایک دوسری فلم " دو آنسو" ریلیز ہوئی- یہ فلم سپر ہٹ رہی اور اس فلم نے سینما گھروں میں سلور جوبلی منائی اور اسی س...